ایک بھکاری وزیراعظم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بات کچھ یوں شروع ہوئی کہ عزیز وطن پاکستان میں وقت کے وزیراعظم کے خلاف ایک سیاسی جمہوری اور آئینی عمل یعنی تحریک ع عدم اعتماد لایا گیا حزب رویت منڈیاں سج گئی اور مال منڈی پہنچا دیا گیا بولیا بھی لگنا شروع ہوئی ضرورت مند اشخاص اپنی ضرورت کے اشیاء لینے آئے کسی نے پرچون پر مال لیا کسی نے تو موقعے سے پیدا اٹھاتے ہوئے پوری دکان بیجھ ڈالی یہ منڈی کسی اور چیز کی نہیں بلکہ معزز اراکین پارلیمنٹ کی منڈی تھی اور اس منڈی میں اچھی سرمایہ کاری دیکھنے کو ملی۔اب جس بندے کو وزیراعظم بنانے کے لیے یہ سب کچھ کرلیا گیا اور کھیل دلچسپ مرحلے میں داخل ہوا ایسے میں مستقبل کے وزیراعظم شہباز شریف صاحب نے نجی ٹی وی چینل کے انٹرویو میں ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ہم بھکاری قوم ہے اور بھکاری خود اپنے فیصلے نہیں کرتے یہ جواب کافی حیران کن تھا کیونکہ وہ چند ہی دنوں میں وزیراعظم بنے والے تھے اور اس جواب کا تعلق مستقبل کے حارجہ پالیسی سے تھا میں بطور شہری اس جواب سے میں سوچ میں پڑ گیا کہ کیا واقعی ہم بھکاری قوم ہے اور بھکاری اپنے فیصلوں میں آزاد نہیں مطلب یہ ہوا کہ جو قوم اپنے فیصلے خود نہیں کرسکتی وہ غلام ہے اب آپ بتائیں کہ ہم بحثیت قوم آزاد ہے یہ نہیں اب اگر سربراہان مملکت کے سوچ کا معیار تو باقی آپ سمجھ لی جئے۔مگر یہ بات کسی حد تک ٹھیک ہے کیونکہ ہر سال ہمیں بجٹ بنانے کے لیے قرضہ لینا پڑتا ہے اور پر جب بجٹ بناتے ہیں اس کا آدھے سے زیادہ قرضوں کے سود میں دیکھتے ہیں ہم شارٹ ٹرم پالیسیوں پر عمل پیرا ہیں حالانکہ معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے ہمیں لانگ ٹرم پالیسیوں کی ضرورت ہے اب نئی حکومت کے لیے بھی مہنگائی کو کم کرنے اور معیشت کو مستحکم کرنا بڑا چیلنج ہے اور اس میں کامیاب ہونے کے لیے سخت اقدامات کرنے ہونگے میرے خیال سے جب تک احتساب منی لانڈرنگ اور نظام عدل کو بہتر بنانے کیلئے عملی اقدامات نہیں کیے جاتے تب تک ہم بھکاری ہی رہینگے اور بقول میاں شہباز شریف صاحب کے بھکاری قوم اپنے فیصلے خود نہیں کرسکتی اور تب تک ان کی یہ بات سچ ثابت ہوگی وقت کی ضرورت ہے کہ قومی مفاد کی خاطر بڑے فیصلے کرنے ہونگے اور دفاعی علات کو ترجیح دینے کے بجائے دفاع معیشت کو ترجیح دینی ہوگی اور آج ہم جس طرح کے حالات سے گزار رہے ہیں آیندہ ایسے حالات پیدا نہ ہو
0 Comments